منگلورو 8/جولائی (ایس او نیوز) منگلورو سے ملنے والی اطلاع کے مطابق مقتول آر ایس ایس کارکن شرتھ کی آخری رسومات کی اداکرتے وقت بی سی روڈ پر جو کشیدگی پیدا ہوئی تھی اس میں ایک مسلم نوجوان پر تازہ حملے کے بعدمزید اضافہ ہوتا دکھائی دے رہاہے۔کہا جاتا ہے کہ منگلورو کے مضافات کائکمبا نامی علاقے میں گروپورا کے پاس جب محمد ریاض (۶۲سال) نامی مسلم نوجوان کھڑا تھا تو ایک موٹر بائک پر آنے والے دو لوگوں نے اچانک ریاض پر چاقو سے حملہ کردیا جس سے اس کی گردن پر گہر ا زخم آیا ہے۔زخمی ریاض کو فوری طور پرعلاج کے لئے منگلورو کے پرائیویٹ اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔
ذرائع سے ملی خبر میں کہا گیا ہے کہ مقتول شرتھ کی آخری رسومات کندور میں واقع اس کے گھر کے سامنے والے باغ میں ادا کی گئیں جہاں ہزاروں ہندو سوگواروں اور سنگھ پریوار کے لیڈروں کی موجودگی میں اس کے والدتھانیاپّا مڈیوال نے چتا کو آگ لگائی۔ اس سے پہلے ایک گھنٹے تک اس مقام پر اس کی نعش عام لوگوں کے درشن کے لئے رکھی گئی تھی۔
اس بیچ سوشیل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوگئی ہے جس میں شرتھ کی لاش لے جانے والے جلوس سے قبل کچھ نوجوانوں کو بی سی روڈ پر چوری چھپے پتھر جمع کرتے اور اپنی کاروں میں رکھتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس سے عوام کا یہ یقین پختہ ہوگیا ہے کہ لاش لے کر جلوس پہنچنے پر شرپسندوں نے دکانوں، عمارتوں اور موٹر گاڑیوں پرجو سنگباری کی تھی وہ پوری طرح منصوبہ بندی اور پیشگی تیاری کے ساتھ کی گئی تھی۔اس طرح کی حرکتوں کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ جنوبی کینرا میں امن و امان بحال ہونے میں ابھی دیر لگنے والی ہے۔